کتاب کہانی
کتاب: نکلے تیری تلاش میں
ادبی صنف:: سفر نامہ
نکلے تیری تلاش میں مستنصر حسین تارڑ صاحب کی اولین کتاب ہے یہ 1969ء میں تارڑ صاحب کے گئے سترہ ممالک کی سفری داستان ہے اس سفر کا آغاز لاہور سے ہوتا ہے اور طور خم کے راستے افغانستان ،ایران،ترکی سے اورینٹ ایکسپریس کے ذریعے اٹلی، جرمنی، ڈنمارک، سویڈن، ناروے،ہالینڈ، لندن اور فرانس پھر واپسی کا سفر ۔
چھ ماہ کے اس طویل اور دلچسپ سفر کی داستان کو نکلے تیری تلاش میں مستنصر حسین تارڑ صاحب نے انتہائی دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے جس میں مکالمہ نگاری ، واقعات کا تسلسل کے ساتھ بیان، مشہور مقامات کا افسانوی انداز میں تاریخ پسِ منظر اور نثر میں جھلکتا افسانوی رنگ جو بعد میں تارڑ صاحب کی خاص پہچان بنا یہی کہانی کہنے کا انداز قاری کو مکمل کتاب کا
مطالعہ کرنے پر مجبور کرتا دیتا ہے وہ اس کو ادھورا نہیں چھوڑ سکتا۔
تارڑ صاحب "نکلے تیری تلاش میں" کا سہرا تلمیذ حقانی صاحب کے سر باندھتے ہیں یہ سفر نامہ پہلی مرتبہ تلمیذ حقانی کی حوصلہ افزائی اور کوششوں سے مقبول جہانگیر کے سیارہ ڈائجسٹ میں "جائیو نہ بدیسں" کے نام سے قسط وار شائع ہوا۔
سیارہ ڈائجسٹ میں "جائیو نہ بدیسں" کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اسے کتاب شکل میں چھاپنے کا فیصلہ ہوا تو "جائیو نہ بدیسں" کی بجائے علامہ اقبال کے مصرعے "نکلے تیری تلاش میں اے قافلۂ ہائے رنگ و بو" سے مستعار لیا گیا اور شفیق الرحمن صاحب سے مشورے کے بعد یہی عنوان طے پایا…
"نکلے تیری تلاش میں" کا اولین سرورق مصور مشرق چغتائی صاحب نے مقبول جہانگیر کے کہنے پر بنایا پہلی مرتبہ سیارہ ڈائجسٹ کے اشاعتی ادارے" پیراڈائز سبکرپشن ایجنسی" نے اس کو شائع کیا بعد میں سنگِ میل پبلیشرز لاہور نے اس کتاب کو شائع کیا تب سے اب تک اس کتاب کے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اپنی پہلی اشاعت کے 45 سال گزرنے کے باوجود" نکلے تیری تلاش میں" اپنے قاری پیدا کر رہی ہے مستنصر حسین تارڑ صاحب کے قاری پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کرے۔
نکلے تیری تلاش میں کی تقریبِ رونمائی شیزان اورئینٹل میں منقعد ہوئی تھی جس کی صدارت اشفاق احمد صاحب نے کی تھی۔
اس زمانے کے مروجہ رواج کے مطابق سفر نامہ میں اسکیچز بنائے جاتے تھے صادقین کے نکلے تیری تلاش میں کے لیے بنائے گئے اسکیچز کی تصاویر ہیں جو بعد کتاب سے ختم کر دئیے گئے
غزلی


بہت اچھے
ReplyDeletePost a Comment