نتاشہ بیگ
🤐۔
ماہم نثار
سدھارتھ ایک خوبصورت لڑکا تھا۔۔۔
وہ آم کے درخت کے نیچے کھیلتا تھا اور اس کی ماں گانے گاتی تھی۔۔۔ سب لوگ سدھارتھ کو بہت پسند کرتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ
سدھارتھ، اس کے دوست اور اس کے ماں باپ یاد رہ گئے ناول سے۔
مرزا آصف غزلی
ایک خوبصورت ناول کا اختتام ہوا- سکون کی تلاش میں نکلنے اور صرف اپنے ضمیر کی آواز سننے پر بضد سدھارتھ کو روشنی ملی بھی تو کتنے تجربات کے بعد، وہ سدھارتھ بن کے دنیا میں داخل ہوا اور گوتم بن کر اسی دنیا کو خیر باد کہہ دیا- دنیا میں ہوتے ہوئے اس نے لالچ، حرص، ہوس،غرض، انا، ظاہری شان و شوکت سیکھی اور جب گوتم بنا تو اپنے اندر کی آواز، کائنات کی آواز اور زندگی کی آواز سننے کے قابل ہو چکا تھا- کملا کو جس نے چھوڑا وہ سدھارتھ تھا، جس سے کملا کا سامنا ہوا وہ گوتم تھا- گوتم تو وہ پیدائشی تھا اور گیانیوں سے اس نے سوچنا، بھوکا رہنا اور انتظار کرنا سیکھا تھا- یہی اسے دنیا میں مشغول رکھنے کے کام آیا اور پھر بالآخر یہی سب کچھ اسے اپنے من کو اور کائنات کو سننے میں کام آیا- اس ناول کی چند خوبصورت سطور آپ بھی پڑھیے-
1- نصیحت سے کوئی عرفان حاصل نہیں کر سکتا- ذات کے عرفان کے لمحات میں آپ نے کیا محسوس کیا- ان گہرے لمحات کا تجربہ آپ کو کیسا لگا اسے آپ الفاظ میں قید نہیں کر سکتے-
2- وجوہ کا علم ہی فکر ہے اور فکر کے توسط سے ہی محسوسات علم کی شکل میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور ختم ہونے کی بجائے زیادہ حقیقی اور مکمل ہونے لگتے ہیں-
3- علم اور اسرار کو سکھایا نہیں جا سکتا، اس کی وضاحت نہیں کی جا سکتی-
4- خیال اور احساس دونوں عظیم ہیں، دونوں میں عظمت ہے، دونوں کو حاصل کرنا، انھیں استعمال میں لانا، دونوں کو یکساں اہمیت دینا، دونوں کی آواز ہمہ تن گوش ہو کر سننا ہی اچھا ہے-
5- ہر آدمی مقصد تک پہنچ سکتا ہے، اگر وہ سوچنا، انتظار کرنا اور بھوکا رہنا جانتا ہو-
6- لفظ بہتر ہے مگر فکر بہترین، ہوشیاری بہتر ہے مگر صبر بہترین-
7- خودشناسی کی قوت، فکر کا پراسرار فن، لمحہ لمحہ زندگی کی وحدانیت کو محسوس کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے-
8- ہر وہ چیز جو درد کے انجام تک برداشت نہیں کیا جاتی، مکمل نہیں کی جاتی- وہ پھر سے رونما ہوجاتی ہے- اور اسے پھر سے ساری تکلیفیں اٹھانا پڑتی ہیں-
9- تم بہت زیادہ کی توقع رکھتے ہو- اور حاصل اس لیے نہیں کر سکتے کہ زیادہ تلاش کرتے ہو-
لقمان احمد
کتاب: سدھارتھ
مصنف: ہرمن ہیسے
تبصرہ: لقمان احمد
میں نے احمد علی سے پوچھا: کوئی ایسی فکشن جسے پڑھ کر تمہیں لگا ہو کہ در کھل گئے ہیں۔
اس نے کہا: ہرمن ہیسے کی سدھارتھ۔
سدھارتھ ایک در وا کرنے والا ناول ہے۔ آپ پڑھتے ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ در کھل رہے ہیں۔ اور اگر دیکھا جائے تو سدھارتھ کا مرکزی خیال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
ہرمن ہیسے نے اس ناول کہ جو طویل نہیں ہے، کے لیے بلاشبہ بہت طویل مشقت، کھوج اور مسافت طے کی ہوگی۔ لیکن ایسا فن پارہ محض ظاہر کے سہارے تکمیل نہیں پا سکتا۔ اس کے لیے وجدان ہے۔ اور یقیناً یہ وجدان ہے۔ یہ فن پارہ ہرمن ہیسے کے لیے ایک قسم کا ریاض ہوگا۔
آپ دیکھتے ہیں کہ آسان اور سادہ طرزِ تحریر میں یہ ایک ایسا فن پارہ ہے جو آپ کو بیزار نہیں کرتا، اپنے آپ چلتا جاتا ہے، اور بڑی آسانی سے بہت بڑی بات بیان کردیتا ہے، آپ کو جملے بار بار دہرانے نہیں پڑتے، لیکن اس کو آسانی میں ڈھالنے کے لیے ان تھک ریاض ہے جو مصنف کرتا رہا ہے۔
اس میں قدیم ہندوستان کی تہذیب کا مطالعہ ہے۔ دو باتیں جو اس سرزمین کے واسطے سے انتہائی اہم ہیں، پہلی جستجو یعنی عرفانِ ذات کے لیے مشقت اور دوسری ھند کا معاشی نظام یعنی تجارت اور امارت۔
جستجو میں ہمیں بدھ۔۔۔مہان گوتم بدھ چلتا پھرتا۔۔۔ باتیں کرتا اور چہرے پر نروان ایسی مسکراہٹ لیے دکھتا ہے۔ وہیں سدھارتھ بھی ہے۔ جو بدھ کی تعلیمات سے کہیں نہ کہیں متفق نہیں ہے۔ وہ بدھ کی تعلیمات کو حرف سمجھتا ہے۔ لیکن اس کا نظریہ چیزوں کا ہے۔ وہ چیزوں سے پیار کرتا ہے۔ کئی چیزوں سے۔ ندی سے، پتھر سے، درخت سے۔۔۔ وہ سمجھتا ہے کہ کوئی بھی چیز اہم ہے۔ کوئی بھی چیز بدھ ہوسکتی ہے یا تھی۔
(اس مقام پر پہنچ کر مجھے وحدت الوجود کا تصور ذہن میں آجاتا ہے۔)
پھر گووندا کو وہ خود ہی کہتا ہے کہ بدھ اور اس کے نظریات بالآخر یکساں ہیں۔ گووندا نفی کرتا ہے۔
یہ مقام مصنف کی صلاحیت کا لوہا منواتا ہے کہ بدھ اور سدھارتھ کے نظریات بالآخر ایک ہیں لیکن پھر بھی انفرادیت رکھتے ہیں۔ عام ذہن جن کو جدا سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ گووندا بھی انہیں جدا سمجھتا ہے۔
یہاں ایک اور بات اہم ہے۔ ندی۔ واسودیو اور سدھارتھ ندی پر اعتقاد رکھتے ہیں اور سب کچھ اس سے سیکھتے ہیں یہاں تک کہ مقدس اوم بھی۔ یعنی قدرت کے مظاہر۔۔۔ (یعنی پھر وحدت الوجود)
تجارت اور امارت یہاں کے باشندگان کی معاشی حالت پر دال ہیں۔
کملا نے پوچھا: تم کیا کرسکتے ہو؟
سدھارتھ نے کہا: میں سوچ سکتا ہوں، میں انتظار کرسکتا ہوں اور میں بھوکا رہ سکتا ہوں۔
یہ منظر نفس کشی اور عشرت۔ یعنی جستجو اور معاش کو مکمل طور پر واضح کردیتا ہے۔ یہی اس کی خوبی ہے اور کامیابی بھی۔
اس کا آغاز بھی جس کوملتا سے ہوا تھا اسی طرح اختتام بھی ہوگیا۔
ایک بات اس ناول کے حوالے سے جس پر بہت زور دیا جاتا ہے کہ اس میں قدیم ھند کی تہذیب ہے۔ مجھے اس درجہ شدت سے اس میں تہذیب نہیں دکھائی دی۔ مجھے کوئی تفصیل نہیں ملی۔ ناول کا اندازِ بیان ایسا ہے جیسا ایک غیر ملکی کا ہوسکتا تھا۔
احمد علی
انتباہ! یہ ایک ایماندار اور اصلی تبصرہ نہیں۔۔۔
یہ کتاب شروع کرنے میں مشکل ہوئی تھی یہ سوچتے ہوئے کہ جرمن سے انگریزی میں ترجمہ ہوتے ہی زبان کے بدلنے سے کچھ نہ کچھ چاشنی میں فرق پڑا ہوگا اور پھر اردو تک تو ویسے ہی۔۔۔
لیکن جیسے ہی اسلوب سمجھ آنا شروع ہوا تو اس کی خوبصورت دانائی نے متاثر کیا اور حقائق نے کچوکے لگانا شروع کیے تو پھر مکمل کیے بنا نہیں رہ سکا۔۔۔
یہ دراصل سفر کی کتھا ہے جو ہر انسان کو کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں درپیش آتا ہے جس کے آغاز میں وہ بودا ہوتا ہے پھر بعد میں آہستہ آہستہ وہ اپنی کجیاں ، کمیوں کو دریافت کرنا شروع کردیتا ہے اور ایک ایسے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے جہاں سب اجنبی لگنے لگتا ہے۔
پھر وہ دھیان کی کاوشوں سے گیان کی نئی منزلوں سے ہوتے ہوئے نروان کی جانب عزمِ سفر ہو جاتاہے۔۔۔
ناول میں جابجا مقامات پر ایسے اشارے ملتے ہیں کہ جو مصنف کے مشرقی تہذیب خصوصاً ہندوستان کے گہرے مطالعہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔مصنف نے ہندوستان کی تہذیب وثقافت اور رسوم رواج اور معاشرے کی نفسیات کو بڑی باریکی سے کہانی کے انداز میں سمویا ہے۔
اس کتاب نے نسلوں کو متاثر کیا جن میں قاری ، لکھاری اور سوچنے والے شامل ہیں۔
یہ کتاب میں ہر اس شخص کو تجویز کروں گا جو کہ اپنی ذات کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے یا زندگی میں کو مقصدیت نہیں ڈھونڈھ پا رہا یا جو اکتا گیا ہے ، اقوال ، اسباق ، اور حقائق سے مزین یہ چشمہ قاری کو سیراب کرنے کے لیے کافی ہے۔

Post a Comment