Reviews by Members of Irtikaz e Fun on "Pyar Ka Pehla Shehr / پیار کا پہلا شہر"

 


As we conducted the activity to review the book Pyar Ka Pehla Shehr / پیار کا پہلا شہر , approximately all our respected member presented their fine reviews with great thoughts that they were holding about this book in their mind. Below are the Reviews:

General Secretary Irtikaz

پیار کا پہلا شہر(ایک ٹریجیڈی)
[مستنصر حسین تارڑ]
تبصرہ: لقمان احمد

ناول چونکہ سفر نامہ ہے۔ اس لیے اس کی صفات تو اس میں موجود ہیں۔ منظر۔۔۔ اور اہم مقامات اور جگوں کے نام کہ ایک قسم کا ٹریول گائیڈ۔
دوسرا۔۔۔ روایتی احساسات و جذبات بھی ہیں۔ 
ایک جگہ مجھے جملہ بازی کافی پسند آئی۔
پاسکل: فرانسیسی میں "PIA" کو خوبصورت لڑکی کہتے ہیں۔
سنان: ہمارے ہاں پیا کو محبوب کہتے ہیں۔ چاہے وہ خوبصورت ہو یا نہ۔

لیکن یہ ناول ایک ٹریجیڈی ہے۔ تحریر مبتدی لکھاری کی لگتی ہے۔ بہت جگہوں پر جھول ہے۔ اس کا اندازِ تحریر مجھے بعض اوقات یوں لگا کہ جیسے یہ ترجمہ شدہ ہے۔ فرانسیسی سے انگریزی اور انگریزی سے اردو۔ شاید جان بوجھ کر ایسا کیا گیا۔

   پاسکل کا کردار ایک مایوسی کی رو میں ہے۔ اور اس پر پردہ اس لڑکی کی عادات میں مشرقی مشاہبت سے ڈالا گیا ہے۔  پھر آخر پر اس کے ساتھ ایک ٹریجیڈی کی گئی جو کہ کسی تحریر کو عوام الناس کے ذہنوں میں باقی رکھنے کا آخری حربہ ہوتا ہے۔ 
الغرض مصنف نے ”دے مار تے ساڈھے چار“ کیا ہے ناول کے ساتھ۔ یعنی ناول کے ساتھ ٹریجیڈی۔۔
اور تارڑ کا اصل کام یہ ہے بھی نہیں۔ "خس و خاشاک زمانے" میں آپ کو اصل تارڑ ملتا ہے۔


Hira Sajid 

پیار کا پہلا شہر از قلم مستنصر حسین تارڑ صاحب 

پاسکل کی کہانی ،نیلی آنکھوں والی اپاہج لڑکی ۔۔۔ جو سرخ کوٹ پہنے تو راج ہنس سی دکھتی ہے ۔
سنان ، ایک وجہیہ مرد ۔
جو پیرس سیاحت کے سلسلے میں آتا ہے ، پیرس کے نظاروں کی منظر کشی تارڑ صاحب نے اس خوبصورت انداز میں کی ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان وہیں کسی جگہ موجود ہو ۔
اس ناول سے یہ سیکھا کہ انسان چاہے جیسا بھی ہو ،اندھا ہو ، لولا لنگڑا یا سماعت سے عاری ۔
وہ چاہے جانے کے قابل ہے ۔اسکا یہ حق ہے کہ اس سے محبت کی جائے ۔ وہ کسی نا کسی ٹیلنٹ کو اپنے اندر own ضرور کرتا ہے ۔
تارڑ صاحب کے یہ کردار معصوم اور حقیقت سے قریب تر لگے ورنہ انکے بہت سے کردار 
Morally grey ہوتے ہیں ۔
لیکن ایک طرح سے کہانی آسان اور عمدہ پیرائے میں لکھی گئی 
لیکن ایک بات جس کے لیے مجھے اعتراض کہ آخر ہمیں خود سے محبت کرنے کے لیے یا خود کو own کرنے کے لیے کسی دوسرے انسان کی ضرورت کیوں ہوتی ہے ۔
ہم خود کے لیے اپنے ہیرو کیوں نہیں ہو سکتے۔
زندگی سہاروں کا نام ضرور ہے لیکن رک جانے کا نام نہیں ۔
We are dependent on others , I agree but we have to own ourselves and value ourselves.
Never ever underestimate yourself whatever the situation is .
تارڑ صاحب نے سیاحت کے لیے پیسے کم ہونے کی وجہ سے یہ ناول دس دنوں میں مکمل کیا ۔ اور اب تک اسکی پچھتر کاپیز شائع ہو چکی ہیں ۔


Asif Ghazli

مجھے ذاتی طور پر پیار کا پہلا شہر اس لیے بھی پسند آیا کہ مستنصر حسین تارڑ نے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر نہیں لکھا۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو فکشن ہونے کے باوجود حقیقت سے قریب تر ہے۔ جذبات نگاری میں تو چاچا جی مستنصر حسین تارڑ کو ویسے ہی کمال حاصل ہے، مگر پیرس میں مختلف مشہور مقامات کی سیر کے دوران سنان کے تاثرات حقیقت پسندانہ ہی تھے۔ میری طرح سنان کو بھی مونا لیزا کی تصویر اوور ریٹڈ لگی۔

نپولین کے مقبرے پر ان ممالک کے جھنڈے لگے تھے جو نپولین نے فتح کیے تھے تو سنان مرعوب ہونے کے بجائے یہ سوچتا ہے کہ ان جھنڈوں سے دوگنے جھنڈے نپولین روس کے ساتھ جنگ میں ہار آیا تھا۔ اور ناول پڑھتے ہوئے جب اس مقام کا تذکرہ آتا ہے جہاں گلوٹین گاڑ کر، انقلاب فرانس کے دنوں میں فرانسیسی بادشاہ لوئیس اور اس کی ملکہ سمیت ہزاروں امراء کو پھانسی دی گئی تھی، تو مجھے چارلس ڈکنز کے ناول دو شہروں کی کہانی کی یاد آئی۔

پیار کا پہلا شہر مجموعی طور پر ایک دلچسپ ناول ہے اور اس کا اختتام بھی سطحی اور روایتی نہیں ہے۔ مجھے ویسے ناول کے آخری باب نے بہت اداس کیا۔ شاید یہ اداسی جو پیار کا پہلا شہر میں چھائی ہوئی ہے، یہ قاری کے ساتھ کچھ دن تو رہتی ہے، اور شاید اسی اداسی کی وجہ سے ہی یہ ناول اب تک پچھتر دفعہ شائع ہو چکا ۔                             ؁✍︎غزلی



Muhammad Jamal

Menay seekha k taqreebn sab loog kisi na kisi trah zehni apahaj hotay hain kuch thoray hotay hain oor kuch zyada hotay hain jo k halaat unhain bna detay hain
Loog apni life ma behtreen ki talaash ma lagay rehtay hain kuch behtreen hasal kr b letay hain lekin zyada tar behtreen ki talaash ma behtr ko b nhi jee patay oor un ki zindagi adhoori reh jati ha
Iss novel ma taqreebn sab khud gharzi ka shikaar hain
Oor meray nazdik apahaj Paskal nhi Sanan tha jo Paskal sy Mohabbat honay k bavjood apni majbooryu ya phir khud gharzi ya phir Pakistani Muashray ki tangyuu ki vja sy saray ehtyarat honay k bavjood zehni apahaj ban kr reh jata ha
Ho skta tha k vo syahat ki vja sy Paskal ko bhool b jata lekin Paskal ka uss k peechay yu divaana vaar baghna oor gir jana oor iss par Sanan ka Paskal k liay na ruk pana Sanan ka sari umrr aziyat ma rakhy ga
Meray khyal ma iss ka
 Natija ye hua k kisi ko umeed ki kirn dikhana nhi chahiay jab ap jantay hu k vo umeed ap hud toornay valay hu and Focus on yourself and do what you really want. Life is all about the next step.


Ahmed Ali

تبصرہ چونکہ biased ہوتا ہے اور پڑھنے والے کو بھی ایک خاص قسم کی سمت میں سوچنے پہ مجبور کر دیتا ہے،کیونکہ کتاب اپنے اسلوب میں سوچ کے لامحدود زاویے لیے ہوتی ہے لیکن تبصرہ میں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ وہ ذاتی ہوتا ہے۔۔میں پھر بھی حتیٰ الامکان کوشش کروں گا کہ یہ غیر جانبدار ہی رہے۔
اس میں سب سے خوبصورت چیز ہے وہ ہے لکھاری کا اپنا اور اس کے کرداروں کا   محبت کے بارے میں مطمعِ نظر ۔۔۔وہ تارڑ صاحب نے بہترین انداز میں پیش کیا ۔
محبت ایک آفاقی جذبہ ہے جو سب پہ وارد ہوتا ہے ، مصنف نے اس کو مرکزی کرداروں پہ بھی وارد ہوتے دِکھایا پھر ان کے تضاد کو بڑی خوبصورتی سے ایک لفظ "اپاہج " سے بیان کیا، لیکن اس میں سوچنے کی بات ہے کہ کیا ذہنی معذوری زیادہ مایوس کن ہے یا جسمانی ۔
اس ناول میں کلاسیکیت ہے وہ چاہے منظر نگاری کی شکل میں ہے یا کرداروں کی roman building  .
بہر حال یہ سفرنامہ جو پیار کے غالب رنگ سے لکھا گیا ہے وہ اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ اس میں دو موضوع بڑے جاندار ہیں 
1- خود کی ذات کو تسلیم کرنا(self acceptance) 
2-محبت جسمانی یا ظاہری خوبصورتی سے ماوراء ہے(love beyond beauty)

کہنے کو بہت کچھ اور لیکن
فی الحال یہی ٹوٹا پھوٹا تبصرہ!


Natasha Baig


اللہ ہے فضل سے سال کے احتتام سے پہلے ہی میں نے پڑھنا شروع کیا اور چند صفحات بلکہ چند سے زیادہ پڑھے تو دلچسپی بڑھی مصروفیات کی وجہ سے تکمیل جلدی ممکن نہیں لیکن جب بھی وقت ملتا کچھ صفحات ضرور پڑھتی ہوں
آگے پتہ نہیں کیا ہوگا لیکن جہاں تک پڑھا اس سے یہی پتہ چلتا کہ وہ جو اپاہج لڑکی دکھائی گئی وہ استعارہ لیا گیا کہ ہر انسان مکمل ہونے کے باوجود کہیں نہ کہیں ادھورا ہے کسی نہ کسی چیز کی کمی کو ساتھ لیے ہے 
سب انسان اپنی اپنی دوڑ میں
گلیمر کے پیچھے چلنے والوں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ لوگوں کے ادھورے پن کو پورا کرنے رک جائیں
سب کو آگے جانا چلتے جانا 
اور ساتھ دینے والے سب کبھی نہیں ہوسکتے وہ کوئی ایک ہی ہو سکتا جو رک کے دیکھتا سوچتا اور دکھ بانٹتا 
نوٹ: ابھی وہ پیرس میں تھا اور پاسکل اسے ملی نہیں دوبارہ پتہ نہیں کیسے ملے گی میں کسی کا ریویو نہیں پڑھوں گی کیونکہ مجھے خود پڑھنا کہ وہ کیسے ملے کہ نہیں


Maham Nisar

Do pages se parh kr aur ap jesy shayar... books likhny waly... kamal hi likh skty hain✨😀

Post a Comment

Previous Post Next Post